طاہر ندوی
امام و خطیب مسجد بلال ہلدی پوکھر
تاریخ الٹ دی گئی۔ صبح کے اجالے کو رات کی تاریکی سے تعبیر کر دیا گیا۔ درویشی کو عیاشی بتایا گیا۔ انصاف پسند کو ظالم کہا گیا ۔ خیر خواہ کو بد خواہ اور دردمند کو جبر و تشدد لکھا گیا۔ ترقیاتی کاموں اور رفاہی خدمات کو فراموش کرکے ڈکیتی اور راہزنی لکھ دیا گیا۔ عفو و درگزر اور مہربانی و رحمدلی کو تشدد پسند، متعصبانہ مزاج کا حامل اور ظلم و جبر کا پیکر کہا گیا۔ جو قرآن کی کتابت اور ٹوپیوں کی سلائی سے اپنی ضروریات پوری کرتے تھے انھیں غاصب قوم کہا گیا۔ جس نے محض پچاس سال ( 1657 تا 1707) میں بر صغیر کو موجودہ افغانستان سے لے کر بنگلہ دیش کی آخری سرحدوں اور لداخ و تبت سے لے کر کیرالہ تک وسعت دی، نا منصفانہ احکام کا خاتمہ کیا، سرکاری خزانوں کو عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کی تدبیر کی ایسے حکمراں کی شبیہ کو بگاڑ کر اس کے دور حکومت کو تنزلی، ناکامی اور شرمندگی کا دور کہا گیا۔
بھگوا سیاست
بھگوا سیاست یہ تو بتاتی ہے کہ اورنگ زیب نے ہندوؤں پر ٹیکس لگایا تھا لیکن یہ نہیں بتاتی کہ اس زمانے کی دیگر چھوٹی چھوٹی حکومتیں بھی اپنے عوام پر ٹیکس لگایا کرتی تھیں۔ راجہ رجواڑے بھی ٹیکس لگایا کرتے تھے خود شیوا جی بھی اپنے علاقے کی پیداوار کا چوتھائی حصہ وصول کیا کرتے تھے جبکہ اورنگ زیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ نے ایسے متعدد ٹیکسوں کو معاف کر دیا تھا جن کا تعلق ہندوؤں سے تھا جیسے گنگا پوجا ٹیکس، گنگا اشنان ٹیکس اور گنگا میں مردوں کو نہلانے کا ٹیکس۔ یہ تو بتایا جاتا ہے کہ اورنگ زیب جزیہ لیتے تھے لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ برہمن پروہتوں، راجپوت مراٹھا درباریوں اور ہندو منصب داروں سے نہیں لیا جاتا تھا بلکہ جین، سکھ اور دیگر غیر مسلم عوام سے لیا جاتا تھا اور اس کے بدلے میں انھیں مخصوص حقوق اور ان کے تحفظات کو یقینی بنایا جاتا تھا۔
بھگوا تاریخ و صحافت یہ تو بتاتے ہیں کہ اورنگ زیب نے ہندوؤں کی عبادت گاہوں کو منہدم کیا لیکن یہ نہیں بتاتے کہ اس کی وجہ کیا تھی۔ اورنگ زیب نے انھیں مندروں کو توڑا جو غیر قانونی تھا جیسے "اورچھا" میں ببر سنگھ دیو جس نے ابو الفضل کو ظالمانہ طریقے سے قتل کیا اور اسی کے سرمایہ سے مندر بنائی تو اورنگ زیب نے اس مندر کو منہدم کروا دیا۔ اسی طرح ان مندروں کو منہدم کیا گیا جن میں حکومتوں کے خلاف سازشوں کے تانے بانے بنے جاتے تھے یا غیر اخلاقی حرکتیں کی جاتی تھی جیسے بنارس کا وشوناتھ مندر جہاں راجپوت گھرانے کی رانیوں کی عصمت ریزی ہوئی تھی اسے دیکھتے ہوئے انھوں نے خود اورنگ زیب سے اس مندر کو منہدم کرنے کا مطالبہ کیا اور ان کے مطالبے پر وشو ناتھ مندر کو توڑا گیا تھا۔
پروپیگنڈا کی دنیا
پروپیگنڈا مواد یہ تو بتاتا ہے کہ اورنگ زیب نے جبراً ہندوؤں کا مذہب تبدیل کرایا لیکن یہ نہیں بتاتے کہ کچھ لوگوں نے مغلیہ سلسلہ مراتب میں ترقی کے حصول کے لئے اسلام قبول کیا تھا۔ یہ تو بتایا جاتا ہے کہ اورنگ زیب نے ہولی اور دیوالی پر پابندی لگائی تھی لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ عید اور بقرعید پر بھی روک لگائی تھی، نو روز پر بھاری بھرکم تقریبات کو محدود کیا گیا تھا، عید اور بقرعید کے موقع پر بڑے پیمانے پر جشن منانے کو بھی منسوخ کیا گیا تھا اور محرم کے جلوس سے متعلق ہنگامہ خیزی پر لگام کسنے کی بھی کوشش کی گئی تھی۔ احمد سرہندی کی کچھ تحریروں پر بھی پابندی لگائی گئی تھی یہ نہیں بتایا جاتا۔
تاریخ الٹ دی گئی۔ سورج کی روشنی کو شب تاریک کہا گیا۔ طلوع صبح کو صبح بے نور دکھایا گیا۔ مسیحا کو مجرم قرار دیا گیا۔ انصاف کو نا انصافی بولا گیا۔ عفو و درگزر کو سخت گیر لکھا گیا۔ سیاسی جنگوں کو مذہبی جنگ بتایا گیا۔ اخلاق حسنہ کو بد اخلاقی سے تعبیر کیا گیا۔ محافظ کو بت شکن کہا گیا۔ مہرباں کو ظالم کہا گیا اور خیر خواہ کو بد خواہ کہہ دیا گیا۔


ایک تبصرہ شائع کریں